اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے سابق سفارتکار اور بحریہ کے ریٹائرڈ افسر فیصل علی شاہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی امریکی محاذ آرائی کا نتیجہ واشنگٹن کے حق میں نہیں نکلے گا، جبکہ باہمی مفاد پر مبنی معاہدہ تمام فریقوں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔
پاکستانی اخبار میں شائع اپنے مضمون میں انہوں نے لکھا کہ خطے میں امریکی فوجی طاقت کا مظاہرہ یا ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کسی مثبت نتیجے کا ضامن نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سفارتی حل کے خواہاں ہیں، تاہم اسرائیل کسی بھی ممکنہ امریکی رعایت کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
فیصل علی شاہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدرٹرمپ کی جانب سے ایران کو بیک وقت الٹی میٹم دینا اور سفارت کاری کی بات کرنا متضاد پیغامات دے رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلح تصادم ہوا تو نتائج امریکہ کی توقعات کے مطابق نہیں ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو یہ “ون ون صورتحال” ہوگی؛ ایران کو یکطرفہ پابندیوں سے نجات مل سکتی ہے جبکہ ٹرمپ بغیر کسی جنگ کے اس معاملے کو سمیٹ سکتے ہیں، اور بظاہر امریکی عوام بھی یہی چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں دوبارہ شروع ہوچکے ہیں، جن کے مختلف ادوار مسقط اور جنیوا میں منعقد ہوئے۔
آپ کا تبصرہ